حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَحْفِرُ الْخَنْدَقَ وَنَحْنُ نَنْقُلُ التُّرَابَ فَيَمُرُّ بِنَا فَقَالَ " اللَّهُمَّ لاَ عَيْشَ إِلاَّ عَيْشُ الآخِرَةِ فَاغْفِرْ لِلأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةِ " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَأَبُو حَازِمٍ اسْمُهُ سَلَمَةُ بْنُ دِينَارٍ الأَعْرَجُ الزَّاهِدُ .وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ .
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ خندق کھود رہے تھے اور ہم مٹی ڈھو رہے تھے، آپ نے ہمیں دیکھا تو فرمایا: «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره فاغفر للأنصار والمهاجره» ”اے اللہ زندگی تو آخرت ہی کی زندگی ہے، تو انصار و مہاجرین کی مغفرت فرما“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں انس بن مالک سے بھی روایت ہے۔