حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي كَمْ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَالَ " فِي شَهْرٍ " . قَالَ إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ - يُرَدِّدُ الْكَلاَمَ أَبُو مُوسَى - وَتَنَاقَصَهُ حَتَّى قَالَ " اقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ " . قَالَ إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " لاَ يَفْقَهُ مَنْ قَرَأَهُ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلاَثٍ " .
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں قرآن کتنے دنوں میں ختم کروں؟ فرمایا: ایک ماہ میں ، کہا: میں اس سے زیادہ کی قدرت رکھتا ہوں ( ابوموسیٰ یعنی محمد بن مثنیٰ اس بات کو باربار دہراتے رہے ) آپ اسے کم کرتے گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے سات دن میں ختم کیا کرو ، کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، فرمایا: وہ قرآن نہیں سمجھتا جو اسے تین دن سے کم میں پڑھے ۱؎ ۔